نقوشِ سیرت

ابوجہل کا رشتہ

آپ ﷺ کا ابو جہل سے رشتہ


سوال

آپ ﷺ کا ابو جہل سے کیا رشتہ تھا ؟

جواب

ابوجہل( جس کا اصل نام عمرو ابن ہشام تھا )قریش خاندان سے تعلق تھا، لیکن  آپ ﷺ سے اس کا کوئی قریبی رشتہ نہیں تھا، بعض لوگ جو اس کو آپ ﷺ کا چچا خیا ل کرتے ہیں یہ غلط ہے ؛ اس لیے کہ آ پﷺ کے دادا عبد المطلب تھے اور ابوجہل نہ عبد المطلب کا بیٹا ہے  اور نہ ہی عبد المطلب کے خاندان کا ہے؛ بلکہ عبد المطلب عبد مناف کے خاندان کے تھے اور ابو جہل مخزومی قبیلہ اور خاندان کا تھا ان دونوں میں خونی رشتہ نہیں ہے۔

أبوجهل بن هشام بن المغیرۃ بن عبد الله بن عمر بن مخزوم القرشي المخزومي الخ۔ (اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ،دارالفکر ۳/۵۶۷) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107201360

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچاؤں اور پھوپھیوں کی تعداد اور نام

سوال

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا اور پھوپھیاں کتنی تھی؟  اور ان کے نام کیا ہیں؟  ساتھ کتابوں کا حوالہ بھی دیں!

جواب

1-  مشہور قول کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گیارہ   چچا تھے، جن کے نام  درج ذیل  ہیں: 
حمزہ، عباس، ابوطالب، ابولہب،   زبیر، عبد کعبہ، مقوّم/ حارث ، ضرار، قثم، مغیرہ اور غیداق۔ بعض  علما نے نوفل اور عوام کا بھی اضافہ کیا ہے۔  
ان میں سے صرف حضرت حمزہ وعباس رضی اللہ عنہما مسلمان ہوئے تھے۔
2- آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چھ (6)  پھوپھیاں تھیں، جن کے نام درج ذیل ہیں:
صفیہ، عاتکہ، برّہ، اروی، امیمہ، ام حکیم بیضاء۔
حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا بالاتفاق مسلمان ہوئیں، جب کہ عاتکہ اور اروی کے مسلمان ہونے نہ ہونے میں علمائے سیرت کا اختلاف ہے۔
”  مِنْهُمْ أَسَدُ اللَّهِ وَأَسَدُ رَسُولِهِ سَيِّدُ الشُّهَدَاءِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، والعباس، وأبو طالب واسمه عبد مناف، وأبو لهب واسمه عبد العزى ، والزبير، وعبد الكعبة، والمقوم، وضرار، وقثم، والمغيرة و لقبه حجل ، والغيداق واسمه مصعب، وَقِيلَ: نوفل، وَزَادَ بَعْضُهُمُ: العوام، وَلَمْ يُسْلِمْ مِنْهُمْ إِلَّا حمزة، و العباس.
وَأَمَّا عَمَّاتُهُ، فصفية أُمُّ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، وعاتكة، وبرة، وأروى، وأميمة، وأم حكيم البيضاء. أَسْلَمَ مِنْهُنَّ صفية، وَاخْتُلِفَ فِي إِسْلَامِ عاتكة وأروى، وَصَحَّحَ بَعْضُهُمْ إِسْلَامَ أروى .
وَأَسَنُّ أَعْمَامِهِ الحارث، وَأَصْغَرُهُمْ سِنًّا: العباس، وَعَقَبَ مِنْهُ حَتَّى مَلَأَ أَوْلَادُهُ الْأَرْضَ. وَكَذَلِكَ أَعْقَبَ أبو طالب وَأَكْثَرَ، والحارث، وأبو لهب، وَجَعَلَ بَعْضُهُمُ الحارث والمقوم وَاحِدًا، وَبَعْضُهُمُ الغيداق وحجلا وَاحِدًا “.
(زاد المعاد لابن القيم، ١/ ١٠١)
فقط واللہ اعلم 

فتوی نمبر : 144207200408

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن